حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عاشوراء کے موقع پر وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں متعدد جلوس ہائے ذوالجناح برآمد ہوئے، جن میں دسیوں ہزار عزاداران سید الشہداءؑ نے شرکت کر کے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔

یوم عاشورا کا سب سے بڑا جلوس انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی کی قیادت میں امام باڑہ میرگنڈ بڈگام سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا مرحوم حجت الاسلام والمسلمین آغا سید مصطفیٰ الموسوی کی رہائش گاہ دارالمصطفیٰ، بڈگام پر اختتام پذیر ہوا۔
اسی طرح عاشوراء کا دوسرا بڑا جلوس ذوالجناح گلشن باغ، مدین صاحب، بوٹہ کدل سرینگر سے برآمد ہو کر خانقاہ حضرت میر شمس الدین اراکیؒ، جڈی بل سرینگر میں اختتام پذیر ہوا، جس میں انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر کے نمائندے حجت الاسلام سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے شرکت کی۔

جلوس ہائے عاشورا میں مرد و خواتین، نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں سمیت دسیوں ہزار عزاداران نے انتہائی نظم و ضبط اور پُرامن ماحول میں شرکت کی۔
اس موقع پر شہید آغا سید محمد حسین یادگار پارک، بہشت الزہراؑ، بڈگام میں نماز جمعہ انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
عاشوراء کے اجتماع سے خطاب میں آغا سید حسن الموسوی نے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نواسۂ رسول حضرت محمد ؐ، حضرت امام حسینؑ، ان کے وفاشعار اہل بیتؑ اور اصحاب باوفا کی عظیم قربانی درحقیقت حق، عدل، اصول اور انسانی اقدار کی دائمی فتح جبکہ ظلم، جبر، استبداد اور انانیت کی ہمیشہ کے لیے شکست کا اعلان ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا نے جبری اور موروثی خلافت کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے متزلزل کر دیا، اور اس عظیم معرکے کے بعد کسی بھی حکمران کو اہل بیت اطہارؑ سے بیعت کا مطالبہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔
اسی دوران یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آغا سید حسن الموسوی کو اسلامی انقلاب کے شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ؒکے ایران میں منعقد ہونے والے جنازے میں شرکت کے لیے ایک دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ اس دعوت کو ان کی دینی، علمی اور مذہبی خدمات کے اعتراف اور انقلاب اسلامی کی قیادت کے ساتھ ان کے دیرینہ روحانی تعلق کی علامت قرار دیا گیا۔ اعلان کے مطابق آغا سید حسن الموسوی الصفوی ایران میں منعقد ہونے والی ان آخری رسومات میں ممتاز علمائے کرام اور بین الاقوامی شخصیات کے ہمراہ شرکت کریں گے۔

جن دیگر مقامات پر عاشورا کے جلوس برآمد کئے گئے ان میں امام باڑہ میر گنڈ تا امام باڑہ بڈگام ،گوجرہ بڈگام ، چھاترگام چاڑورہ ،یاری ستھرو،سایہ ہامہ، باباپورہ ماگام ، وتہ ماگام بیروہ، ایچھہ ہامہ کھاگ ، چائیرہ گیون ،غوطی پورہ ، طالہ پورہ ، بوگہ چھل خانصاحب و،جہامہ بڈگام، اتنہ،سونہ پاہ، حیات پورہ ، دندوسہ محلہ بٹ چک ، اسکندر پورہ ،بٹہ پورہ کھاگ و،یائیل راولپورہ بڈگام، سٹھسو کلان، سنزی پورہ، کینہ ہامہ تحصیل چاڑورہ، توحیدیہ اسکول شالنہ، شپ پورہ ماگام ،گنڈحسی بٹ سرینگر، گامدو گاڑہ کھڈ ،امام باڑہ اندرکوٹ ، اندکھلو سوناواری، لالہ حاجی اوڑینہ ،نوگام پائین ، بڈی پورہ سوناواری ،چھانہ محلہ نوگام بانڈی پورہ ، ملہ پورہ دوسلی پورہ پٹن بارہ مولہ سونیم، کانلو،یال، کھنہ پیٹھ ، زاڈی محلہ و اوچھلی پورہ و دیورہ پٹن، نورکھاہ قاضی پورہ و شاہدرہ کمل کوٹ اوڑی بارہ مولہ ، ڈب تا زیارت گاہ حضرت سید محمد دانیالؒ ڈب گاندربل ،وکھرون پلوامہ و،پنیر جاگیر ترال پلوامہ،بمقام چھترہ گل اننت ناگ شامل ہیں۔









آپ کا تبصرہ